ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہادائی آبی تنازعہ کے حل کا اعلان کرنے والے یڈیورپا کون؟ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی لیڈر سیاسی چال چل رہے ہیں :سدارامیا

مہادائی آبی تنازعہ کے حل کا اعلان کرنے والے یڈیورپا کون؟ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی لیڈر سیاسی چال چل رہے ہیں :سدارامیا

Fri, 22 Dec 2017 11:59:33    S.O. News Service

بنگلورو،21؍دسمبر (ایس او نیوز) ریاستی وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج کہا کہ پڑوسی ریاست گوا کے ساتھ مہاد ائی ندی کے پانی کی تقسیم کامعاملہ حل کرنے بی جے پی کی کوشش ایک سیاسی چال ہے ۔اگلے سال کی ابتداء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو نظر میں رکھ کر بی جے پی مہادائی آبی تنازعہ حل کروانے کا ناٹک کررہی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس ایڈی یورپا اس تنازعہ پر کس طرح اعلان کرسکتے ہیں کہ بی جے پی یہ تنازعہ حل کرائے گی۔ انہوں نے کہاکہ گوا کے وزیراعلیٰ نے کیا اس طرح کا کوئی اعلان کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو انہیں ریاستی حکومت کو اپنے اس فیصلے کی اطلاع دینی چاہئے ۔اس فیصلے سے متعلق حلف نامہ ٹریبونل میں داخل کرنا چاہئے ۔ جس نے اس معاملے کو بند کررکھا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس طرح کا اعلان کرنے والے ایڈی یورپا ہوتے کون ہے ؟یہ ایک سیاسی چال ہے ۔ ریاست میں اگلے سال اسمبلی کے لئے ہونے والے انتخابات کو ذہن میں رکھ کر  یڈیورپا نے ایسا اعلان کیا ہے۔سدارامیا نے کہا کہ وہ اس معاملے کے حل کی کسی بھی کوشش کاخیر مقدم کرتے ہیں ۔ اگر وزیراعظم اس معاملے کے حل کے لئے متعلقہ تینوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کااجلاس طلب کرتے ہیں تو وہ اب بھی اجلاس میں شرکت کرنے تیار ہیں ۔شمالی کرناٹک کے وجیا پورہ میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو متعلقہ تین وزرائے اعلیٰ کافوری اجلاس طلب کرنے دیجئے ۔میں بھی اس معاملے میں گوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے تیار ہوں۔

گوا کے وزیراعلیٰ سے ملاقات: یڈیورپا  کی قیادت میں ایک بی جے پی وفد نے کل نئی دہلی میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کی موجودگی میں گوا کے وزیراعلیٰ پاریکر سے ملاقات کی تھی۔بی جے پی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ملاقات کے دوران بات چیت اطمینان بخش رہی۔ اس ملاقات کے بعد  یڈیورپا نے یہ بھی کہاتھاکہ آج ہبلی میں منعقد ہورہے پارٹی کے کنونشن میں وہ گواکے وزیراعلیٰ کی جانب سے اس معاملے میں موصول ہونے والے فیصلے کااعلان کریں گے ۔ سدارامیا نے کہاکہ  یڈیورپا اس تنازعہ کو حل کردینے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ تنازعہ اتنی آسانی سے حل ہوجائے گا۔کرناٹک چاہتا ہے کہ گوا مہادائی ندی سے کالسا بنڈوری نالہ پراجکٹ کے لئے 7.56ٹی ایم سی پانی جاری کرے۔ اس پراجکٹ کے ذریعہ جڑواں شہر ہبلی دھارواڑ اور بیلگاوی اور گدگ اضلاع کو پینے کا پانی فراہم کیاجانا ہے ۔ اس سے قبل حکومت کرناٹک نے پچھلے سال 27جولائی کو مہادائی آبی تنازعہ ٹریبونل میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ ٹریبونل نے مختلف حقائق کاحوالہ دیتے ہوئے اس عرضی کو مسترد کردیا تھا کیونکہ اس پراجکٹ کے نفاذ سے معاشی نقصان ہونے کاخدشہ ہے۔ٹریبونل کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک خصوصی عذر داری عرضی داخل کی ہے۔سدارامیا نے بتایا کہ اس تنازعہ کے حل کیلئے مداخلت کرنے وزیراعظم سے ملاقات کرنے ایک وفد جب دہلی گیا تو اس وقت بی جے پی لیڈروں نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔ پچھلے کئی دنوں سے بی جے پی لیڈر اس معاملے پر اپنا منہ بند ہی رکھے ہوئے تھے لیکن اب اسمبلی انتخابات قریب ہیں اس لئے بی جے پی لیڈر اس معاملے کی آڑ میں سیاسی چال چل رہے ہیں۔


Share: